مولی کے طبی فوا ئد،شربت کلونجی - saraiki poetry

Urdu Verse is the most ideal way to communicate sentiments with everybody. Track down an astounding assortment of Urdu verse, shayari and ghazal by every one of the renowned writers. ‎Miserable Verse · ‎Love Verse · ‎Add Verse · ‎Friendship Verse

Thursday, 3 November 2022

مولی کے طبی فوا ئد،شربت کلونجی

 مولی کے طبی فوا ئد

مولی کے طبی فوا ئد

مولی جسے سلاد کا ایک لازمی حصہ سمجھا جاتا ہے دراصل پودے کی جڑ ہے اس  کا  ذائقہ کچھ تیز تیکھا اور مٹھاس لئے  ہوتا 

ہے مولی کے بیج سے نکالا  جانے والا تیل  بھی طبی مقاصد میں استعمال ہوتا ہے ۔مختلف امراض میں مولی کے فوائد حسب ذیل ہیں۔

یرقان :جگر اور معدے کے لیے مولی افادیت مسلم ہے اور اس میں خون صاف کرنے کی خوبی بھی پائی جاتی ہے ۔مولی  

یرقان  یا پیلیا میں خون سے بیلیروبِن    کو خارج کر کے اس کی پیداوار کو کنٹرول کرتی ہے ۔یرقان کے دوران خون کے سرخ 

خیلات کی تباہی کو روک کر خون میں زیادہ  آکسیجن کی فراہمی یقینی بناتی ہے ۔

قبض،بواسیر : مولی میں دیر سے ہضم ہونے والے کاربوہاہیڈریٹس ہوتے ہیں جس  سے کھانا  ہضم ہونے میں  مدد ملتی ہے ۔ 

جسم میں پانی دیر تک رکا رہتا ہے جس سے قبض نہیں ہوتی اور بواسیر کی تکلیف بھی نہیں رہتی ۔

پیشاب کی تکالیف : مولی کا جوس پینے سے پیشاب کے دوران سوزش اور جلن کا احساس کم ہو جاتا ہے  ۔ یہ گردوں کی بھی 

صفائی کرتا ہے جس سے گردے اور پیشاب کی نالیوں کے انفیکشن سے بچت ہو جاتی ہے ۔

وزن میں کمی : مولی کھانے سے معدہ بھرا ہوا اور بھوک مٹنے کااحساس بہت جلد ہو جاتا ہے کیونکہ اس میں دیر ہضم کیلیوریز 

برائے نام ہوتی ہے اس لیے وزن کم کرنےکے خواہشمند افراد کے لیئے یہ آئیڈیل غذا ہے ۔

برص :جلد پر جگہ جگہ سفید داغ  کا ابھرنا جسے بھلبھری بھی کہتے ہیں ،جس کے علاج میں خاص طور پر  مولی کے بیج استعمال 

کیئے جاتے ہیں۔


 شربت کلونجی

شربت کلونجی


شربت کلونجی  ہر طرح کی بیماریوں کا سد باب کرتی ہے

نیا خون پیدا کر کے جسمانی طاقت میں زبردست اضافہ کرتی ہے

حافظہ کو   تقویت دیتی ہے اور چہرہ کو نکھار کرتی ہے 

شربت کلونجی ہر موسم میں ہر عمر کے فرد کیلیئے یکساں مفید ہے ۔


حدیث نبوی     

سیاہ دانے کلونجی کو استعمال میں رکھو ، اس میں موت کے علاوہ  ہر بیماری کے لئیے شفاء ہے

اگر اچھا لگے تو لائیک کریں  اور دوستوں کو شئیر کریں   شکریا۔


محمد شعیب   شوکت

 

 

 

 

 

No comments:

Post a Comment