دنیا ایک خواب ہے
جن لوگوں کی آنکھوں پر غفلت کی پٹی بندھی ہوتی ہے ان کے لیے دنیا مذکورہ شخص کے خواب میں نطر آنے والے جنگل کی طرح ہے وہ دنیا کی رنگینیوں میں مگن ہو کر اپنی ہستی سے بھی غافل ہو جاتے ہیں ،پھر وہ دنیا کی ثباتی سے ڈرتے ہیں نہ جنگل کے درندے کی طرح اردگرد منڈلاتی موت کی کوئ پروا کرتے ہیں اگر دنیا کےاس جنگل میں منگل مناتے ہوے کبھی یہ احساس پیدا ہوتا بھی کہ شیر کی طرح موت گھات لگائ بیٹھی ہے تو بھاگنے کی کوشش کرتے ہیں مگر یہ نہیں جانتے کہ قبر کاہولناک گڑھا راستے میں حائل ہے جس میں ان کی بداعمالیاں سانپوں کی شکل میں منہ کھولے انہیں نگلنے کے لیے تیار بیٹھے ہیں ۔اگر خوش قسمتی سے کسی درخت کی شاخ ہاتھ آجانے سے زندگی کی کچھ سانسیں بڑھ جاتی ہیں تو یہ گمان کرکے کہ شاید انہوں نے موت اور قبر سے پیچھا چھڑا لیا ہے سکھ کا سانس لیتے ہیں اور اس بات کی پروا بھی نہیں کرتے کہ ان کی زندگی کی شاخ کو دو ننھے جانور دن اور رات کی شکل میں آہستہ آہستہ کُتر رہے ہیں شہد کی صورت میں میٹھی دیکھائ دینے والی دنیاوی لذتوں میں وہ اس قدر کھو جاتے ہیں کہ موت کا ڈر تک باقی نہیں رہتا۔مگر جب دن اور رات آہستہ آہستہ ان کی زندگی کی شاخ کو کاٹ دیتے ہیں تو انہیں موت کے فرشتے کی آواز سنائ دیتی ہے تو ان کے اَوسان خطا ہو جاتے ہیں اور وہ ہَکّے بَکّے رہ جاتے ہیں بِل آخر موت کا فرشتہ ان کی رُوح قبض کرلیتا ہے اور ان کا جسم جب قبر کے ہولناک گڑھے میں جاتا ہے ان کی بداعمالیاں سانپ کی شکل میں آگے بڑھ کر ان کا استقبال کرتی ہیں ۔
وہ ہے
عَیش و عِشرت کا کوئ محل بھی جہاں
تاک میں ہر گھڑی ہو اَجَل بھی
بس اب
اپنے اس جہل سے تُو نکل بھی
یہ جینے کا انداز اپنا
بدل بھی
جگہ جی لگانے کی دنیا نہیں ہے
یہ
عِبرت کی جا ہے تما شہ نہیں ہے
محمد شعیب شو کت

No comments:
Post a Comment