گناہ آخر گناہ ہے
گناہ چھوٹا ہو یا بڑا آخر گناہ ہی ہوتا ہے ۔کیو نکہ گناہ چاہے کتنا ہی چھوٹا ہو اگر اُس پر پکڑ ہوئی تو خدا کی قسم اُس کا عذاب نہ سہا
سکے گا۔چنانچہ گناہوں کی سزا سے ڈرتے ہوئے حضرتِ سَیِّدُ نا عبدالوّہاب شَعرانی شافی علَیہِ رَحمَتُ اللہِ الکافی نقل فرماتے
ہیں حضرتِ سَیِّدُ نا یونس بن عُبید رَحمَتہُ اللہِ تعالٰی علیہ پانچ درہم احناف کے نزدیک دس درہم کی چوری پر ہاتھ کا ٹا جا تا ہے
اور اس میں شک نہیں کہ تمہارا سب سے چھوٹا گناہ بھی پانچ درہم کی چوری سے بھی بُرا ہے ،لہذا تمہارے ہر گناہ کے
بدلے آخرت میں تمہارا ایک غُضو کاٹا جائے گا ۔ اور حضرتِ سَیِّدُ نا بلال بن سعد رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں گناہ کے
چھوٹا ہونے کو نہ دیکھو بلکہ یہ دیکھو کہ تم کس کی نہ فرمانی کر رہے ہو ۔
حضرتِ سَیِّدُ نا امام ابنِ جوزی علَیہِ رَحمَتُ اللہِ القوی اللہ عَزَّوَجَلَّ کا ایک فرمانِ عالیشان کچھ یوں نقل فرماتے ہیں اے ابن
آدم تو کتنا مجبور ہے مجھ سے مانگتا ہے تو میں عطا نہیں کرتا کیو نکہ میں جانتا ہوں کہ تیرے حق میں کیا بہتر ہے ، پھر جب تو
مجھ سے مانگنے میں اصرار کرتا ہے تو میں تجھ پر رحم و کرم کی نظر فرماتا ہوں اور تیری مانگی ہوئی شے تجھے عطا فرما دیتا ہوں ،
پھر جب تو میری عطا کردہ شے پا کر میری نہ فرمانی کرنے لگتا ہے تو میں تجھے ذلیل و رُسوا کر دیتا ہوں ۔ میں کس قدر تیری
بہتری چاہتا ہوں اور تو میری کتنی نافرمانیاں کرتاہے قریب ہے کہ میں تجھ سے ایسا ناراض ہو جاوں کہ اس کے بعد کبھی
ناراض نہ ہوں ۔اس کے بعد مزید ایک فرمانِ عالیشان کچھ یوں نقل فرماتے ہیں اے میرے بندے تو کب تک میری
نافرمانی کرتا رہے گا حالانکہ میں نے تجھے اپنا رزق کھلایا اور تجھ پر احسان کیا ،کیا میں نے تجھے اپنے دَستِ قُدرت سے پیدا
نہیں فرمایا ؟کیا میں نے تجھ میں روح نہیں پھونکی ؟کیا تو نہیں جانتا کہ میں اپنی اطاعت کرنے والوں کے ساتھ کیسا مُعاملہ فرماتا
ہوں اور اپنی نہ فرمانی کرنے والوں کی کیسی گِرفت فرماتا ہوں ؟ کیا تجھے حیا نہیں آتی کہ مصائِب میں مجھے یاد کرتا ہے مگر
خوش حالی میں بھول جاتا ہے ؟ نفسانی خواہشات نے تیری چشمِ بصیرت کو اندھا کر دیا ہے تو کب تک سستی کرے گا ؟ اگر تو
اپنے گناہ سے توبہ کرے گا تو میں تجھے اپنی امان دوں گا ،ایسے گھر کو چھوڑ دے جس کی صفائی مَیلاپَن اور اُمّیدیں جھوٹی ہیں تو
نے میرے قُرب کو گھٹیا شے کے عِوض بیچ دیا حالانکہ میرا کوئی شریک نہیں ، تیرے پاس اس وقت کیا جواب ہو گا جب
تیرے اعضاء تیر ے خلاف گواہی دیں گے جسے تو سنے گا اور دیکھےگا ۔
اگر اچھا لگے تو
لائیک کرنا اور دوستوں کو شئیر کرنا
شکریہ۔
محمد شعیب
شوکت

No comments:
Post a Comment