گناہ خلوت میں ہو یا جلوت میں گناہ ہے
معلوم ہوا گناہ خلوت میں ہو یا جلوت میں یعنی تنہائی میں یا سب کے سامنے ، گناہ ہی ہوتا
ہے اور اللہ عَزَّوَجَلَّ اپنی نا فرمانی کرنے والے بندوں پر سخت غضب فرماتا ہے ۔ غور
فرمایئے یہ وہ لوگ تھے جو ظاہری طور پر تو نیک تھے مگر چُھپ کر گناہ کرتے تھے اور ایک
ہم ہیں
گناہ کرتے پھرتے
ہیں اور ذرا
نہیں شرماتے ،ہمارا
کیا بنے گا ؟
ذرا سوچیئے تو سہی اگر یونہی گنا کرتے کرتے قبر میں اُتر گئے اور ہم پر عذاب مُسَّلَط کر دیا گیا
تو ہم کیا کریں گے ؟ اگر سانپ بچھو ں نے کفن پھاڑ کر ہمارے جسم پر قبضہ جمالیا تو کہاں
جائیں گے ؟ قبر کی دیواریں ملنے سے ہماری پسلیاں ٹوٹ پھوٹ کر ایک دوسرے میں پیو
ست ہو گئیں تو کیسی شدید تکلیف ہوگی ایک پتھر کی چوٹ تو برداشت ہوتی نہیں اگر
فرشتوں نے ہتھوڑے برسانے شروع کر دیئے تو ان نازک ہڈیوں کا کیا بنے گا ؟ گناہوں
کے سبب رب عَزَّوَجَلَّ کی ناراضی کی صورت میں ہونے والے ان عذابات کو زرا تَصَوُّر
میں تو لایئے اور پھر فیصلہ کیجئے کہ ہمارا گناہوں سے بچنا آسان ہے یا ان عذابات کو سہنا
۔۔۔ہم میں سے کوئی بھی ان عذابوں کی تاب نہیں رکھتا تو آئیے ابھی وقت ہے توبہ کر
لیجئے خود کو گناہوں سے بچاتے ہوئے رب عَزَّوَجَلَّ کی اطاعت اور فرمانبرداری میں ایامِ
زِیست بسر کیجئے کہ اسی میں کامیابی ہے
حضرت سَیِّدُ نا ابن حجر یہمتی مکی عَلَیہِ رَحمَۃُ اللہِ القَوِی حضرت سَیِّدُ نا ابن عباس رضی اللہ تَعالیٰ
عنھما کا ایک فرمان ہے کہ اے گناہ گار تُو گناہ کے انجامِ بد سے کیوں بے خوف ہے ؟
حالانکہ گناہ کی طلب میں رہنا گناہ کرنے سے بھی بڑا گناہ ہے ، تیرا دائیں بائیں جانب کے
فرشتوں سے حیا نہ کرنا گناہ پر قائم رہنا اس سے بھی بڑا گناہ ہے حالانکہ تو نہیں جانتا کہ اللہ
عَزَّوَجَلَّ تیرے ساتھ کیا سلوک فرمانے والا ہے ؟ اور تیرا گناہ میں ناکامی پر غمگین ہونا اس
سے بھی بڑا گناہ ہے ۔ گناہ کرتے ہوئے تز ہوا سے دروازے کا پردہ اٹھ جائے تو تُو ڈر جاتا
ہے مگر اللہ عَزَّوَجَلَّ کی اس نظر سے نہیں ڈرتا جو وہ تجھ پر رکھتا ہے تیرا یہ عمل اس سے
بھی بڑا
گناہ ہے

No comments:
Post a Comment